Thread Rating:
  • 1 Vote(s) - 5 Average
  • 1
  • 2
  • 3
  • 4
  • 5
آؤ نماز پڑھیں کرکٹ کے گراؤنڈ میں
Sponsered Link
#1
آؤ نماز پڑھیں کرکٹ کے گراؤنڈ میں

یوں تو سب کہتے ہیں یہ مٹی بہت زرخیز ہے ،اس نے ان لوگوں کو جنم دیا جو کہ اپنی اپنی فیلڈ میں نامی گرامی رہ چکے ،اپنا نام ستاروں پر کندہ کر چکے ہیں سیاست ہو یا سائنس یا پھر کھیلوں کا میدان ،اس قوم نے اپنی ہمّت کے مطابق اپنی مٹی اور ذرخیزی کا لوہا منوایا ہے
 

چونکہ یہ آرٹیکل کھیل کے حوالے سے ہے لہٰذا میں یہاں اپنے کچھ خیالات کا اظھار کرنا مناسب سمجھتا ہوں

پہلی گزارش تو یہ کہ میں کسی کھیل کا بھی ایکسپرٹ نہیں ،لیکن کچھ مشاہدات ہیں خیالات ہیں جو غلط بھی ہو سکتے ہیں اور آپ کے نقطے نظر سے مختلف بھی .انسان ہوں ،سانس بھی لیتا ہوں جینا بھی چاہتا ہوں اور جینے دینا بھی ..بھر حال تمہید کا مقصد  یہ ہے غلطی کی گنجائش ہمیشہ رہے گی اور ہر کسی کی سوچ سے مطابقت نا ممکن
 

پاکستان کی کرکٹ ٹیم جو کہ ١٩٩٢ ورلڈ کپ کی فاتح تھی آج ایسا کیا ہوا کے دنیا کی ناکام ترین ٹیموں میں اس کا نام چاند کی طرح روشن ہے،یہ داستان رسوائی زبان زد عام ہے

یقیناً اسکی بہت سی وجوہات ہیں جن کے تانے بانے آمریت کی سیاہ رات سے لے کر جمہور کی نازک حکمرانی تک پھیلے  ہووے ہیں ،پنتیس سال کی جبری حکمرانی اور زبردستی کی مسلمانیت نے ہمارے اندر سے ایک معتدل  سوچ کو تباہ اور تعلیم سے دوری نے ہمارے اندر کی حیوانیت  اور منفی جذباتیت کو آگ لگا دی ہے

اسی آگ میں ہم سب جھلس رہے ہیں ،ہمارے ادارے تباہ ہو چکے ہیں جو بچے ہیں وہ بھی لڑ کھڑا رہے ہیں

ہمارے ان قومی اداروں کو توڑ دیا گیا  یا توڑا جا رہا ہے جو کسی بھی قوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں
 

باقی اداروں کی طرح کرکٹ کا ادارہ بھی اپنی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے زوال پذیر ہے .ہماری قوم لاکھوں خرچ کر کہ ،اپنا پیٹ کاٹ کر قومی ٹیم کو بیرون ملک دوروں پر بھیجتے ہیں اور پھر ہم  چراغ روشن کرتے ہیں ،امید کا ،جیت کا, پیار کا محبّت کا،عشق اور جنون کا, ایک خوابی دنیا میں چلے جاتے ہیں کے ہم سب سے بہتر ہیں جیسے بنی اسرایئل والے سمجھتے رہے ہیں
 

 ہماری ٹیم یہ بھول جاتی ہے کے ہم ان سب کو وہاں میچ کھیلنے اور قوم کے لئے کچھ خوشخبری کی امید سنانے کو روانہ کرتے ہیں لیکن یہ وہاں دنیا کرکٹ کے شیدایوں کے سامنے گراؤنڈ میں مصلے بچھا لیتے ہیں پھر ایک امام ہوتا ہے اور باقی مقتدی ،مجھے محسوس ہوتا ہے پوری دنیا وہاں اپنے بہترین کھلاڑیوں کو میچ کھیلنے اور ہم باجماعت نماز ادا کروانے کے لئے بھیجتے ہیں ،شائد اقبال کےاس خواب کی تعبیر اس سے بہتر نہیں تھی

مسلم ہیں ہم سارا وطن سارا جہاں ہمارا
واللہ کیا نظارہ ہوتا ہے انکو نماز پڑھتے دیکھ کر ایمان جاگ اٹھتا ہے اور من کرتا ہے  کہ اپنے فرائض کو چھوڑ کر فورن تہجد ادا کرنے کا سوچنے لگتا ہوں
 

نماز پڑھنا فرض ،دعا کرنا بھی جائز لیکن اپنے فرائض سے کوتاہی  محنت سے نفرت  اور پھر رو رو کر دعا کرنا کامیابی کی  ....یہ کیسے ممکن ہے خدا کے اصول اٹل ہیں اس کاینات کے لئے،اس جہاں کے لئے ،زمین اور آسمان کے لئے ،انسانوں اور چرندوں کے لئے ،خدا کی رحمت اور نصرت تب ہی ملتی ہے ،یہ بارش تب ہی برستی ہے جب اسکے لازوال اصولوں کی پیروی کی جائے
 

میری اپنی ٹیم سے گزارش ہے کہ خدا کے لئے اس دکھاوے کی نماز سے زائدہ ہم آپ کو کرکٹ کھیلنا دیکھنا چاہتے ہیں اس ناٹک کو ساری دنیا کے سامنے کرنا بند کریں اور فلحال  یہ سرے عام گراؤنڈ میں بچھے مصلے اٹھا لیں ،مجھ کو بہت اچھا لگے گا جب آپ کامیابی سے ہمکنار ہوں گے اور اسکے بعد پوری دنیا کے سامنے نماز ادا کر کہ خدا کا شکر ادا کریں گے ،لیکن ابھی اپنے ساتھ ساتھ ہمارے مذہب  کا مذاق مت اڑائیں.غیر بھی سوچتے ہوں گے یہ خدا کو پکار پکار کر بھی ناکام ہیں اور ہم کافر ہو کر بھی کامیابی کے جھنڈے گھاڑ رہے ہیں
(ڈیموکریٹک)

Reply
#2
You have your own thoughts. But prayer is compulsory you have to offer prayer. Whether it is a ground or mosque. Winning and loosing is the part of game.

How badly England lost in first two matches. How West Indies lost in two matches. So involving religion in the loosing is not fair.
Reply
#3
(02-28-2015, 04:43 PM)Faryal Wrote: You have your own thoughts. But prayer is compulsory you have to offer prayer. Whether it is a ground or mosque. Winning and loosing is the part of game.

How badly England lost in first two matches. How West Indies lost in two matches. So involving religion in the loosing is not fair.

جی جی ..مینے بھی یہی کہا ہے
صرف اتنا عرض ہے کرکٹ کا میدان کھیلنے کے لئے ہوتا ہے نمازیں پڑھنے کے لئے نہیں
ہر چیز کو سب کے سامنے مذہب کا تڑکا لگانا ضروری نہیں ہوتا
ویسے جن کی آپ نے مثال دی ہے وہ چرچ نہیں جاتے ہوں گے ،سچی بات ہے عمل میں کافی بہتر ہیں اور اپنے فرائض سے بخوبی اگاہ
Reply


Forum Jump:


Users browsing this thread: 1 Guest(s)